ترواننت پورم،2مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سری لنکا میں برقع پر پابندی لگنے کے بعد ہندوستان میں بھی اس معاملے پر چل رہی تیکھی بحث کے درمیان کیرالہ کی ایک کالج نے سرکلر جاری کرکے کہا ہے کہ طالبات برقع پہن کر اسکول نہ آئیں۔کیرالہ کے ملّپورم میں چلائے جا رہے اس اقلیتی کالج میں برقع پہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے،یہ کالج مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے چلایاجاتا ہے۔لوک سبھا انتخابات کے درمیان اس پابندی پر سیاسی گھمسان بھی طے مانا جا رہا ہے۔کیرالہ کی کچھ مقامی تنظیموں نے اس فیصلے پر تنقید بھی کی ہے۔
بتا دیں کہ سری لنکا میں شدید دہشت گردانہ حملوں کے بعد وہاں کی حکومت نے عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے والے ہر طرح کے لباس پر پابندی لگا دی ہے۔اس انتخابی موسم میں اب یہ مسئلہ ہندوستان میں بھی گرمانے لگا ہے۔شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنا میں اداریہ لکھ کر وزیر اعظم نریندر مودی سے ہندوستان میں بھی برقع پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا،اگرچہ بعد میں پارٹی نے صفائی دی کہ یہ اخبار کے ایڈیٹر کی ذاتی رائے ہے۔ادھر بھوپال سے بی جے پی امیدوار سادھوی پرگیہ نے بھی شیوسینا کی اس مانگ کی حمایت کی ہے،تاہم بی جے پی نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ادھر بی جے پی ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے ’سامنا‘ کے اداریے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پابندی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔بی جے پی کے علاوہ این ڈی اے کے ہی ایک دیگر ساتھی رام داس اٹھاولے نے شیوسینا کی مانگ کو مسترد کیا ہے،اٹھاولے نے کہا کہ یہ روایت کا حصہ ہے۔برقع پر پابندی کی اس درخواست پر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے شیوسینا پر جم کر حملہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا بنیادی حق ہے،اور آپ ہندوتوا بالکل نہیں لاگو کر سکتے اویسی نئے کہا کہ آج برقع تو کل داڑھی اور ٹوپی کو لے کر بولیں گے کہ آپ کے چہرے پر داڑھی ٹھیک نہیں ہے اور ٹوپی مت پہنیں۔